بلیو وہیل جیسی خطرناک گیم بنانے والا تو پکڑا گیا لیکن اس کی وجہ سے سعودی عرب میں وہ کام ہوگیا کہ پورے ملک میں ہنگامہ برپا ہوگیا

ریاض (ویب ڈیسک)بلیو وہیل جیسی خطرناک گیم بنا کر نوجوانوں کی جانوں کے ساتھ کھیلنے والا شخص تو جیل میں پہنچ چکا ہے لیکن اس شیطانی گیم کے وار ابھی بھی جاری ہیں۔جان لیوا گیم کا تازہ شکار سعودی عرب کا ایک لڑکا بنا ہے جس نے یہ گیم کھیلتے ہوئے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے۔

العربیہ کے مطابق عبداللہ بن فہد نے بتایا کہ اس کے چچا کا 12 سالہ بیٹا بلیو وہیل گیم کھیلتا تھا جس کی وجہ سے اس نے موت کو گلے لگالیا۔ ’چچیرے بھائی کے دوستوں سے پتا چلا ہے کہ اس کا بلیو وہیل گیم میں کوئی مقابلہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے اس نے خود کو پھانسی لگائی‘۔ عبداللہ نے بتایا کہ بلیو وہیل گیم کی وجہ سے اس کے چچا زاد بھائی کی خودکشی کے معاملے کی سکیورٹی حکام تفتیش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ بلیو وہیل گیم میں 50 سٹیجز ہوتی ہیں جو کھیلنے والے کو 50 دن میں مکمل کرنی ہوتی ہیں ۔ مذکورہ گیم میں کھیلنے والے کو مختلف چیلنجز دیے جاتے ہیں جن میں اسے اپنی ذات کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ گیم کئی نوجوانوں کی زندگیاں ختم کراچکی ہے ۔ یہ گیم ایک 22 سالہ روسی سافٹ ویئر انجینئر نکی تانیا رونوف نے تیار کی تھی جسے گرفتار کیا جاچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں