”حامد میر اور کاشف عباسی کا ڈاکٹر شاہد مسعود کیساتھ۔۔۔“ رﺅف کلاسرا نے پیشی کے دوران حامد میر اور کاشف عباسی کی عدالت موجودگی پر سوال اٹھا دیا، ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانی دنگ رہ گئے

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار رﺅف کلاسرا نے کہا ہے کہ بڑے ادب کے ساتھ چیف جسٹس سے کہتا ہوں کہ میرے خیال میں پورے پاکستان کے صحافیوں کو اکٹھا کرنا نہیں بنتا تھا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود آج کل بہت زیادہ ریٹنگ لے رہے ہیں جس کی وجہ سے رقیب بہت پریشان ہیں۔

”سانڈہ اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ ذبح کرنے کے 8 گھنٹوں بعد بھی زندہ رہتا ہے“ سانڈے کیا ہیں اور انہیں ذبح کر کے تیل کیسے نکالا جاتا ہے؟ کیا یہ تیل واقعی ادویاتی خصوصیات رکھتا ہے؟ دلچسپ اور مفید معلومات جانئے
حامد میر اور کاشف عباسی بھی وہاں پہنچے ہوئے تھے جن کے پروگراموں کا وقت اور شاہد مسعود کے پروگرام کا وقت ایک ہی ہے۔ میرے خیال سے ان دونوں کو وہاں آنے کی بجائے معذرت کر لینی چاہئے تھی کہ ہم ایک طرح سے رقیب ہیں ، ہم ایک ہی وقت پر پروگرام کرتے ہیں، ہم صحیح بات بھی کریں گے تو شائد سوال اٹھے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رﺅف کلاسرا نے کہا کہ ”میں بڑے ادب کیساتھ چیف جسٹس آف پاکستان سے کہتا ہوں کہ میرے خیال میں یہ نہیں بنتا تھا کہ آپ پورے پاکستان کے صحافیوں کو اکٹھا کر لیں اور انہیں کہیں کہ اب بتائیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ مطلب یہ کہ جرگے اور عدالت میں ایک فرق ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا تھا کہ میرے پاس انفارمیشن ہے، چیف جسٹس صاحب بلائیں گے تو میں شیئر کروں گا۔
آپ نے بلایا اور انفارمیشن آپ کے پاس آئی، مطمئن ہوئے یا نہیں یہ آپ پر ہے، آپ نے فیصلہ کرنا ہے لیکن اگر آپ نے 30سے 40 صحافیوں کا جرگہ بلا کر فیصلہ کروانا ہے تو ایک صحافی کے طور پر میرا یہ خیال ہے کہ میں اس تصور کی زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کر سکتا ۔ میرے پاس اس کی وجہ بھی ہے کہ میں یہ کیوں کہہ رہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بہت ساری رقابتیں ہیں، مثال کے طور پر کل میں دیکھ رہا تھا کہ حامد میر اور کاشف عباسی صاحب بھی وہاں تھے۔
ان دونوں کی ڈاکٹر شاہد مسعود کیساتھ پروگرام کی ٹائمنگ ایک جیسی ہے۔ یہ تینوں 8 بجے پروگرام کرتے ہیں، اب تینوں مقابلہ کرنے والوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کر دیں اور 2 کہیں کہ ایک کی بات غلط ہے یا ٹھیک نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ چیف جسٹس صاحب کو اس بات کا پتہ نہیں ہو گا، اگرچہ ہم ڈاکٹر شاہد مسعود کو پسند کرتے ہیں یا نہیں لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ وہ آج کل ریٹنگ بہت زیادہ لے رہے ہیں۔
لہٰذا ان کے رقیب مایوس ہوں گے، چاہے وہ میڈیا ہاﺅسز ہوں یا پھر اینکرز ہوں یا جو بھی ہوں۔ جب آپ نے ان کو کھڑا کر دیا کہ اب آپ ہیں اور اس کا فیصلہ کریں تو میرا خیال ہے کہ کنفلیکٹ آف انٹرسٹ آنی چاہئے تھی۔ بلکہ حامد میر اور کاشف عباسی کو معذرت کر لینی چاہئے تھی کہ سر آپ نے ہمیں بلایا بڑی عزت دی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان کے رقیب ہیں، ہم ایک ہی ٹائم پر پروگرام کرتے ہیں، ہم صحیح بات بھی کہیں گے تو اس میں شک اٹھے گا اور شائد ہم انصاف نہ کر سکیں، لہٰذا میرا خیال ہے کہ ان دونوں کو معذرت کرنی چاہئے تھی۔
دوسرا میں یہ دیکھ رہا تھا کہ بہت سے ایسے صحافی بھی وہاں گئے ہوئے تھے جو دن رات چیف جسٹس صاحب پر تبرہ پڑھتے ہیں، وہ ٹوئٹر پر بھی پڑھتے ہیں اور ٹی وی ٹاک شوز میں بھی تبرہ پڑھتے ہیں کہ چیف جسٹس اتنے ایکٹو کیوں ہوئے حکومتوں پر اور وہ سوموٹو کیوں لے رہے ہیں۔
انہیں وہاں آتے ہوئے شرم آنی چاہئے تھی، اگر آپ کا ایک موقف تھا کہ چیف جسٹس کو اس پر ایکٹو نہیں ہونا چاہئے تو پھر اس پر قائم رہتے۔ اب آپ تمام اٹھے اور وہاں چلے گئے۔ کئی ایسے صحافی بھی وہاں پہنچے ہوئے تھے جن کو کسی نے بلایا ہی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اتنا بڑا میلہ اور سرکس لگ رہی ہے، ہم وہاں پر کیوں نہیں ہیں۔

”تو پھر تمہیں وہ تصاویر دکھاﺅں جن میں تم نے کپڑے نہیں پہنے “ پاکستانی کرکٹر اسامہ میر اور پاکستانی لڑکی کے درمیان ٹوئٹر پر جنگ ”انکشاف“ میں بدل گئی، ایسا راز فاش ہو گیا کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا
ان کو معذرت کر لینا چاہئے تھی کہ ہم ٹی وی پر بیٹھ کر آپ کے جوڈیشل ایکٹوازم کیخلاف تقریریں کرتے ہیں، فتوے دیتے ہیں، بھاشن دیتے ہیں، لہٰذا ہم نہیں آ رہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ نے وہاں گھنٹہ گھنٹہ تقریریں کی ہیں، ابھی آپ کل پرسوں پھر دیکھیں گے کہ یہی لوگ جوڈیشل ایکٹوازم کیخلاف تقریریں کر رہے ہوں گے، تو سمجھا جائے گا کہ شائد ڈاکٹر شاہد مسعود کو صرف کارنر کرنے اور دبانے کیلئے سارے اکٹھے ہو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں